نئی دہلی،21؍دسمبر(پی ٹی آئی/یو این آئی) سابق مرکزی وزیر برائے ٹیلی کام اے راجا، دراوڈامنیترا،کثرگھم(دی ایم کے) رکن پارلیمان کنی موژی اور دیگر تمام ملزمین کو آج سیاسی طورپر سنسنی خیز 2؍جی اسپکٹرم گھپلہ مقدمہ میں خصوصی عدالت نے بری کردیا۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام ہوا۔ دیگر15 کو بھی چھٹکارہ ملاہے جن میں سابق ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بہورا، راجاکے نجی معتمد آر کے چنڈولیا،سووام ٹیلی کام پر موڑز شاہد عثمان بلوا اور ونود گوٹنکا، یونی ٹیک لمیٹیڈ کے مینجمنٹ ڈائرکٹر سنجے چندرا،فلمساز کریم مورانی اور ریلائنس انل دھیروبھائی امبانی گروپ کے3؍ اعلیٰ ایکزی کیٹیوز گوتم دوشی، سریندرا اور ہری نائر شامل ہیں۔یادرہے اس گھپلہ نے سابقہ ترقی پسند اتحاد(یو پی اے ) حکومت کو ہلاکر رکھ دینے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ایک لاکھ 76ہ زار کروڑ روپے کے ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھپلہ اسی دور میں ہواتھا۔پٹیالہ ہاؤز واقع سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سینی نے اس اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کسی بھی الزام کو ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ دو فریقین کے درمیان پیسے کا لین دین ہواہے ۔ اس لئے تمام کوالزامات سے بری کیا جاتا ہے ۔ 2010 میں کمپٹرولر اور آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں اس گھپلہ کو ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے دکھایا گیا تھا۔جبکہ سی بی آئی نے اپنے الزام میں اسے تقریباَ31ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ بتایا تھا۔ ان کے علاوہ سوان ٹیلی کوم پرائیوٹ لمیٹیڈ ، یونیٹیک وائرلیس تمل ناڈو اور ریلائنس ٹیلی کوم لمیٹیڈ بھی اس معاملے میں ملزم تھے جنہیں بری کیا گیا ہے ۔سی بی آئی نے سینی کے سامنے ود گیس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے ایک کیس دائر کیا تھا۔سی بی آئی کے پہلے کیس میں راجا اور کنی موژی کو اہم ملزم بنایا گیا تھا۔فیصلہ سنائے جانے سے پہلے عدالت کے احاطے میں زبردست بھیڑکی وجہ سے ملزمین عدالت نہیں پہنچ پائے تھے ، اس کی وجہ سے کارروائی کچھ دیر کے لئے موخر کردی گئی۔ دوبارہ کارروائی شروع ہوئی توجج نے ایک سطر کے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری وکیل الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔ اس دوران کنی موزی او راے راجہ کے حامی بھی عدالت کے کمرے میں موجود تھے ۔ فیصلہ آتے ہی عدالت میں تالیاں بجنے لگیں۔ خیال رہے کہ ای ڈی نے اپنے چارج شیٹ میں ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی کی اہلیہ دیالو امل کو بھی ملزم بنایا تھا ۔ اپنی عبوری رپورٹ میں ای ڈی نے 10 افراد اور 9 کمپنیوں کو منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ملزم بنایا تھا۔2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے تحت 2010سے پہلے’’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘‘کے تحت الاٹمنٹ کیا جاتا تھا۔اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اس طریقے کار کو رد کرنے کے ساتھ ہی کئی الاٹمنٹ لائسنس مسترد کردئے گئے تھے ۔بعد میں الاٹمنٹ نیلامی کے ذریعہ کیا جانے لگا ۔2014کے عام انتخابات میں 2 جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ بڑا انتخابی موضوع بنا تھا۔فیصلے کے بعداپنے پہلے ردعمل میں کنی موزی نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو اس دوران میرے ساتھ کھڑے رہے ۔ فیصلے کے بعد کانگریسی رہنماوں نے بھی بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ۔
پروپگنڈہ جھوٹا ثابت: منموہن
سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے آج کہا کہ 2جی معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس کے سلسلے میں ا ن کی حکومت کے خلاف جو بڑے پیمانے پر وپگنڈہ کیا تھا وہ بالکل بے بنیاد تھا۔ڈاکٹر سنگھ نے یہاں پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں بڑی بڑی باتیں نہیں کرنا چاہتا ۔ فیصلہ اپنی کہانی خود کہہ رہا ہے ۔ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ 'عدالت کے حکم کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ مجھے خوشی ہے کہ عدالت نے واضح طورپر کہا ہے کہ یو پی اے کے خلاف پروپگنڈہ بے بنیاد تھا۔ خیال رہیکہ جس زمانے میں اسپیکٹر م الاٹمنٹ ہوا تھا اس وقت ڈاکٹر من موہن سنگھ وزیر اعظم تھے ۔سابق ٹیلی کام وزیر کپل سبل نے اسے قانونی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں کسی طرح کا نقصان نہ ہونے کی ان کی بات درست ثابت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مجھ پر جن لوگوں نے الزام لگائے انہیں اب معافی مانگنی چاہئے ۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر ممبر پارلیمنٹ پی چدمبرم نے کہا کہ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں پر گھپلے کے الزام کبھی درست نہیں تھے اور یہ اب ثابت ہوگیاہے۔ کانگریس نے مزید کہا کہ ٹوجی گھپلہ پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں تمام ملزمین کے بری ہونے سے آج واضح ہوگیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار کے لئے سازش کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ٹو جی گھپلے جو فیصلہ آیا ہے اس سے دودھ کا دودھ او رپانی کا پانی ہوگیا ہے ۔ بی جے پی اور اس کے چوٹی کے لیڈروں کی طرف سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے بولا گیا جھوٹ سامنے آگیا ہے اور اب مودی اور جیٹلی جواب دہی سے نہیں بچ سکتے ہیں۔
سچائی سامنے آگئی: کانگریس
کانگریس لیڈروں نے کہا کہ اس معاملے میں سچائی سب کے سامنے آچکی ہے ۔ بی جے پی نے ٹوجی بدعنوانی کو اقتدار کی سیڑھی بنایا اور اس کا خوب پروپیگنڈہ کیا اور اس جھوٹ کا پھل انہیں اقتدار کی صورت میں مل بھی گیا۔ اب ان کا جھوٹ پکڑا گیا ہے اور اس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔ معافی صرف کانگریس اور ملک سے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا سے مانگنی چاہئے کیوں کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا گھپلہ کہہ کر پروپیگنڈہ کیاگیا تھا۔موژی ٹوجی معاملہ میں سی بی آئی کی عدالت سے آج بری ہونے کے بعدردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دن کا گزشتہ 6 برسوں سے انتظارکرہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 6 سال تکلیف دہ رہے ۔ میراہمیشہ سے یقین رہاہے کہ اندھیرا ختم ہوگا اور بالآخرروشنی نظر آئیگی۔ تمل ناڈو کے سابق وزیراعلیٰ ڈی ایم کے صدر ایم کروناندھی نے آج مسرت کااظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ انصاف’سب پرغالب آگیا ۔ ڈی ایم کے لیڈر کروناندھی اپنی ضعیفی اور علالت کے باعث جو گزشتہ ایک برس سے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیارکرچکے ہیں نے آج اس فیصلہ پر پہلی مرتبہ تامل محاورہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے’’اندھی ویزہم، ارم ویلم‘‘کہا یعنی ناانصافی کو شکست ہوگی اور انصاف قائم ہوگا۔
فیصلہ آخری سند ہیں۔جیٹلی
حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2 جی پر فیصلے کو کانگریس ا عزازی تمغہ تصور کر رہی ہے ؛ لیکن اس کی صفر آمدنی خسارے کا اصول اس وقت غلط ثابت ہو گیا تھا جب سپریم کورٹ نے اسپیکٹرم الاٹمنٹ منسوخ کر دیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ کورٹ کے اس فیصلے کو آخری سند نہ سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ2007-08 اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی بنیاد اس وقت کی مارکیٹ شرح پر نہیں کیا تھا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ الاٹمنٹ نیلامی کے ذریعے نہیں ہوا تھا؛بلکہ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر کیا گیا تھا ۔وہیں کپل سبل نے کہا کہ 2 جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ پر ہمارا ’زیرو لاس‘ کا دعوی ثابت ہو گیا اور یہ معاملہ ہم پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔
سی بی آئی اپیل کرے گی
دریں اثناء ملک کی اہم جانچ ایجنسی سی بی آئی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔سی بی آئی کی طرف سے آج یہاں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جانچ ایجنسی خصوصی جج او پی سینی کے فیصلے کا قانونی جائزہ لے گی اور اس کے مطابق ضروری قدم اٹھاتے ہوئے اعلی عدالت میں اپیل کر ے گی۔جانچ ایجنسی نے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ معاملے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کی بادی النظر میں دیکھا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ استغاثہ ایجنسی کے ذریعہ پیش کردہ شواہد کو مناسب پس منظر میں نہیں غور کیا گیا۔